Front Page

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

اے ایچ ایس ۔اُردو – ۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

سرِ ورق

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّ حْمٰنِ الرَّحِیْمُ ہ

اے ایچ ایس فاؤنڈیشن کے اس اردو صفحے پر آپ کو خوش آمدید
یہ صفحہ ان خواتین و حضرات کے لئے ہے جو انگریزی میں رابطے کو نا مناسب یا مشکل خیال کرتے ہیں۔ ہم بلا
تخصیص ہر ایک کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ آپ اس سہولت کواخلاقیات کے فروغ ،تعمیری اور اصلاحی مقاصد کے لئے استعمال کریں گے۔ ۔ (مثلاََ مصدقہ اطلاعات ۔ تعلیم و تربیت۔نیز اجتماعی مسائل پر اظہار خیال۔ اور علاقائی مفادات کی تشریح ، نشر و اشاعت، اور چرچا وغیرہ

مزید بر آں

ہماری خواہش ہے کہ ہماری اس کاوش کو طلبہ و طالبات کی علمی اور تربیتی معاونت کے لئے استعمال کرنے کے لئے اساتذہ کرام اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہر خواتین و حضرات ان کی راہنمائی کے لئے اپنی معلومات کا تبادلہ کریں۔ہماری خواہش ہے کہ ہماری اس کاوش کو طلبہ و طالبات کی علمی اور تربیتی معاونت کے لئے استعمال کرنے کے لئے اساتذہ کرام اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہر خواتین و حضرات ان کی راہنمائی کے لئے اپنی معلومات کا تبادلہ کریں۔

ہماری ٹیم

اے ایچ ایس فاوٗنڈیشن کے 12 بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں پاکستان میں پروجیکٹس (منصوبوں) کے لئے ہماری ٹیم کے ارکین کی تعداد 4 ہے۔ اور آخرالذکر تین حضرات عوام کی طرف سے منتخب ہو کر ھاسپٹل منیجمنٹ کمیٹی ۔( ایچ ایم سی ) کےنام سے ہماری معاونت کرتے ہیں۔ ہم عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے تعاون کے شکر گذار ہیں۔ ے ایچ ایس فاوٗنڈیشن کے 12 بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں پاکستان میں پروجیکٹس (منصوبوں) کے لئے ہماری ٹیم کے ارکین کی تعداد 4 ہے۔ اور آخرالذکر تین حضرات عوام کی طرف سے منتخب ہو کر ھاسپٹل منیجمنٹ کمیٹی ۔( ایچ ایم سی ) کےنام سے ہماری معاونت کرتے ہیں۔ ہم عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے تعاون کے شکر گذار ہیں۔ .

ہاسپٹل منیجمنٹ

ندیم حیدر شاہ

چئیر میں۔ (بانی)۔

وحید گیلانی

پراجیکٹ منیجر

محمد سفیر

ایڈمن

راجہ صداقت محمود

پیرا میڈیکل

محمد سلیم

کئیر ٹیکر

ایچ ۔ ایم ۔ سی

مقامی آبادی کے منتخب افراد 

تین رکنی ہاسپٹل منیجمنٹ کمیٹی مقامی آبادی کی طرف سے منتخب کی گئی ہے جو فاؤنڈیشن اور عوام کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔ مقامی سٹاف یا مریضوں کے مسائل کو سنتی اور فیصلے کرتی ہے۔ فاؤنڈیشن کے متعلقہ امور میں مقامی ضروریات کو مدِ نظر رلھ کر اپنی آرا ء دیتی ہے۔ 

سید محمد یامین

چئیرمین

ریاست علی

ممبر

حامد رضا

ممبر

نون بگلہ

طاہر سعید

آزاد کشمیر کے دارلحکومت
مظفر آباد سے تقریباََ 62 کیلو میٹر کے فاصلے پر ۔ تحصیل چکار کے نواح میں واقع
یہ ایک چھوٹا سا موضع قدرت کی بے پناہ فیاضیوں سے نوازا گیا تھا۔ لیکن وقت اور
سیاست کے بے رحم ہاتھوں نے اس گاؤں کی قدرتی نوازشات کو نہ صرف لوٹ لیا، اس
شاہکار کو منصوبہ بندی کے تحت ترقی اور خوشحالی سے دور رکھا۔ دہائیوں قبل
دستور میں اس موضع کو صحت افزا ء مقام قرار دیا گیا، لیکن بدلتے وقت کے ساتھ اس کو
خصوصی مقاصد کے حصول کیلئے الگ تھلگ رکھا گیا تا کہ اس کے قدرتی جنگل کی دولت کو
دونوں ھاتھوں سے لوٹا جا سکے۔ نتیجتاََ اس گاؤں کے گرد و نواح میں موجود جنگل
تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ آج اس جنگل میں نو پود کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

آزاد کشمیر کی تاریخ کی سب
سے پرانی سڑکوں میں سے ایک اسی تباہ کار منصوبہ بندی کا شکار ہو کر صفحہ ھستی سے
مٹ چکی ہے اور صرف چند مقامات پر اس کے آثار نظر آرہے ہیں۔گذشتہ 2 دہائیوں
سے اس سڑک کا 1 کیلو میٹر کا حصہ پختہ نہیں کیا جا سکا مبادا یہاں سیاحوں یا
ماحولیات کےمتعلقہ اشخاص اس تباہ کاری پر آواز بلند کر کے گھاٹ مارنے ( سمگلنگ
کرنے ) والے با اثر سیاسی کارندوں، اور ان کے کارکنوں کا واحد زریعہ آمدن بند نہ
کر دیں۔ ۔73 ۔ 1972 میں مڈل سکول کا درجہ پانے والے سکول کو 4 سے زیادہ
دہائیاں گذرنے کے با وجود ہائی سکول کا درجہ نہیں دیا گیا۔ ھائی سکول کی تعلیم کے
لئے بچوں کو پیدل چکار جانا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے آدھے سے زیادہ بچے سکول کو چھوڑ
دیتے ہیں۔ لڑکیوں کو اسی مردانہ مڈل سکول کے اساتذہ کی ذاتی اجازت سے آٹھویں
جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر مڈل کے بعد بچیوں کی تعلیم کا
سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ گذشتہ حکومت نے کسی پیکیج وغیرہ کے تحت اس سکول کو ہائی
کا درجہ دیا۔ لیکن موجودہ حکومت کے اسی یونین کونسل سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم
نے اسے واپس مڈل سکول میں تبدیل کر کے نہ صرف اپنی نمائندگی کا حق ادا کیا بلکہ
نویں جماعت میں داخلہ لینے والی تقریباََ 2 درجن بچیوں کا وقت ضائع کر دیا۔

اے
ایچ ایس فاؤنڈیشن نے زلزلے کے فوراََ بعد اس علاقے میں اپنی سرگرمیاں ریلیف کی
صورت میں شروع کیں۔ اسی دوران ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری، ندیم حیدر شاہ نے
لوگوں کی مشاورت سے ایک بنیادی مرکز صحت بنانے کا عزم کیا اور بے شمار مشکلات کے
باوجود اس کو پایہءِ تکمیل تک پہنچایا۔ یہی مرکز صحت ایک واحد سہولت ہے جو نہ صرف
نون بگلہ بلکہ گرد و نواح کے تمام گاؤں کو مفت ادویات فراہم کر رہا ہے۔ چند افراد
کی نون بگلہ میں آمد کی وجہ صرف یہی ایک مرکزِ صحت ہے وگرنہ اس گاؤں میں ایسی
کوئی سہولت موجود نہیں جس کے لئے لوگ اس گاؤں کا رُخ کریں۔۔ سیاحت کے فروغ کی
خاطر زمانہ قدیم میں تعمیر کیا گیا ریسٹ ہاؤس اب ایک بھوت بنگلہ ہے جو کسی زمانے
میں سیر و سیاحت کے شوقین افراد سے پر رونق ہوا کرتا تھا۔ اس بھوت بنگلے کو 2005
کے زلزلے میں جو نقصان پہنچا اس کی مرمت، یا تزئین و آرائش آج تک نہیں کی جا
سکی۔ البتہ اس کی حفاظت پر مامور سیاسی سٹاف کو سرکاری خزانے سے تنخواہیں بدستور
مل رہی ہیں۔

ہم سے رابطہ کریں

اگر آپ کو کوئی شکایت ہو،  یا

آپ کوئی مشورہ دینا چاہتے ہوں

آپ کسی طرح سے شامل ہو کر کردار ادا کرناچاہتے ہوں

تو درج ذیل ذرائع سے ہم سے رابطہ فرمائیں۔ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

ای میل

admin@ahsfoundation.co.uk

waheedgilani@yahoo.co.uk

موبائل

+92 300 511 5691

ڈاک

101- Pine Street. Off A.Q Khan Road.

Bani Gala. Islamabad. Post Code: 44000

ویب سائیٹ

www.ahsfoundation.co.uk

دوسروں کے ساتھ بانٹیں
  • 4
    Shares

دوسروں کے ساتھ بانٹیں
  • 4
    Shares
en_USEnglish
en_USEnglish