القراٰن الکریم

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

بِسْمِ اللہِ الرِّحْمٰنِ الرَّحِیْم

سورۃالنساءَ  (سورہ ۴ آیت ۱۹) میں ارشادِ ربِ عالی ہے

یٰاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوۡا لَا یَحِلُّ لَکم اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرۡہًا ؕ وَ لَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

004:019

 
 
[جالندھری صاحب نے یوں ترجمہ فریایا]‏
 

مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) مت روک رکھنا۔ ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا نامناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہو سہو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں سے بہت سی بھلائی پیدا کر دے۔ ‏

 

تفسیر ابن كثیر

عورت پر ظلم کا خاتمہ

صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مر جائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مر جاتی حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑے بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کر لیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالٰی نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب کوئی مر جاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے یا جس کو چاہے، حضرت عکرمہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبینہ تھا رضی اللہ عنہا اس نے اس صورت کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کر لوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آجائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مر جائے گی ہم اس سے نکاح کر لیں گے یا اپنے لڑکے سے اس کا نکاح کرا دیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالٰی نے ممانعت کر دی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم ۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دے دے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہو جائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی وغیرہ تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لئے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تا کہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہو جائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا ابن سلمانی فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلے آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امر اسلام کی اصلاح کے لئے نازل ہوئی، ابن مبارک بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہو جائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ تابعین وغیرہ زنا کاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہئے اور اسے تنگ کرے تا کہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورۃ بقرہ کی آیت میں ہے آیت (ولا یحل لکم) الخ، یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے آیت (فاحشتہ مبینتہ) سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا اس کی نافرمانی کرنا بد زبانی کج خلقی کرنا حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے، امام ابن جریر فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تا کہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے واللہ اعلم، یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لئے ہوا ہے، ابن زید فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کر لیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی اس بات پر گواہ مقرر ہو جاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت اراضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کر دیتی تو تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد رحمتہ اللہ علیہ یہ حکم اور سورۃ بقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لئے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت (ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف یع) نی جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔

بہترین زوج محترم

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں عائشہ صدیقہ آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے حضرت عائشہ پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا معاملہ برابر ہو گیا، اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ حضرت صدیقہ خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہو جاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جن کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کر دو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔
صلی اللہ علیہ وسلم
پس مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی محبت پیار سے رہیں، اللہ تعالٰی فرماتا ہے فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے، اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمد للہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالٰی بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہو جائے اور اس سے اللہ تعالٰی بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہو گا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہو گی۔ پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اور اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے
ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔
 
 آگے پڑھنے کے لئے نیچے کلک یا ٹچ کریں
 
 
دوسروں کے ساتھ بانٹیں
  • 3
    Shares

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *