تنظیم السادات گیلانیہ

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللّٰھُمَ صُلِ عَلَیْ مُحَمَّدٍاوَّعَلَیْ اٰلِ مُحَمَّد

**********************************

مَنشُور Manifesto.

تنظیم ُالسَّادات گیلؔانیہ

آزاد جموں و کشمیرو پاکستان

ہیڈ آفس مظفر آباد آزاد کشمیر

**********************************

(نوٹ)

 اس منشور کو حتمی نہ سمجھا جائے  جبکہ باہمی مشاورت سے اس کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ مزید معلومات، رابطے اور تجاویز کے لئے

 0303 5441047 شبیر گیلانی سے موبائل نمبر

یا ۔ 03557300364

پر رابطہ کریں

*********************************************************************************************

تعارُفPreface .

تنظِیم ُالسَّادات  گیلؔانیہ

غیر سیاسی، غیر کاروباری اورغیر جانبدار سماجی فلاح و بہبود کی انجمن ہے ،جو خالصتاََ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرے گی۔ اس کا محور ِتوجہ،  ساداتِ گیلاؔنیہ کے وہ افراد اور خاندان ہیں جِن کا معیارِ زندگی عمومی سطع سے نیچےہے۔ یہ ایسے  غیر مراعت یافتہ   اور وسائل کی عدم دستیابی کی بناء پر پسماندہ  افراداور خاندانوں کا تحفظ کرے گی جوعدم ِتحفظ، استحصال اور محروُمی کا شکار ہیں۔

مقصدMission .

ساداؔت بالعموم اور گیلؔانی سادات  بالخصُوص ، کی اصلاح ِاحوال  و فلاح و بہبود۔

Fundamental & Social Welfare of Sadat Principally

The Gilanis.

**********************************

وجُوہاتMotives .

اشاعت ِاِسلام کی خاطِر اختّیار کئے گئے   صدیوں کے سفر میں،   سادات کے مقامی  آبادی  کے ساتھ  اختلاط کی وجہ سے مجموعی طور پر سادات  اپنی حقیقی اقدار، اسلاف کے طرز حیات  ، اور اپنے درخشاں ماضی  سے بڑی حد  تک  نا آشنا  اور نا بلد  ہو چُکے ہیں۔  ان کی عمومی زندگی میں  خاندانی  روایات،  اصول ،  اسلوب وعمل  اور دینداری کا فُقدان  نمایاں ہو چکا ہے۔   دوری اور عدم توجہی  کی وجہ سےعود آنے والی غیر اسلامی، غیر شرعی  اور غیر اخلاقی روایات کا قلعہ قمع کر کے اپنے اسلاف کے عظیم ماضی کی تجدید،  اور اپنی زندگی میں ان اقدار اور روایات کا فروغ وقت کی ضرورت ہے۔   نیز مقامی طرزِ معاشرت  اور  موروثی ، خاندانی طرزِ حیات میں حائل خلیج کی وجہ سے سادات   کی غالب اکثریت شعوری ،تعلیمی،  مالی ، سماجی اور معاشی لحاظ سے پسماندگی کا شکار ہیں۔

 شرعی لحاظ سے سادات پر غیر سید کی زکوٰۃ،  منَّت  ، اورصدقہ جائز نہیں ، اسلئےبہت سارے خاندان کسمپُرسی کی زندگی گذارتے ہیں۔  ایسی صورت میں  وہ شدید بحران کا شکار ہوتے ہیں اور زکوٰۃ یا منّت کا صدقہ وغیرہ لے کر شرعی حکم کی خلاف ورزی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔  خدشہ ہے کہ اسی بحران اور کسمپرسی کی وجہ سے سادات کے کفیل  نوجوان  خاندان کی کفالت کے لئےغیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر قانون شکنی کے ساتھ ساتھ اسلاف اور خاندان کی بدنامی،  کا باعث بنتے ہیں۔                        

وقت کا تقاضا ہے کہ سادات گیلؔانیہ کی فلاح  و بہبُود ، اور اِصلاح  ِاحوال کی خاطر انقلابی اقدامات اُٹھائے جائیں اور مختلف وجوہات کی بناء  پر پیدا ہونے والی محرومیوں ، مشکلات ،اور نا کامیوں   کا ازالہ کیا جائے۔  اس مقصد کا حصول کسی محدود کاوش  یا مخصوص  عمل کے زریعے ممکن نہیں۔  لہذا اشد ضروری ہے کہ باہمی اتحاد،  بھائی چارے  اور روابط  کو فروغ دے کر ایک متفِقہ لائحہءِ عمل اپنایا جائے۔ اہداف مقرر کئے جائیں ۔ اور  ان کے حصول کی خاطر ایک مسلسل جدو جہد کا آغاز کیا  جائے۔ اس عظیم مقصد اور کٹھن کام کی انجام دہی کسی فردِواحد کی استعداد سے بالا تر ہے۔ چنانچہ ایسے پلیٹ فارم (منچ) کی ضرورت ہے جہاں مخلص سماجی کارکن اپنا وقت ، صلاحیت اور وسائل وقف کر کے اپنے محروم، بھائیوں کی امداد کرسکیں۔ جو دینی، دنیاوی لحاظ سے ایک فلاحی معاشرے کے لئے ضروری ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر تنظیم السادات گیلانیہ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

**********************************

 

وسائلSources .

بر سرِ روزگار، کاروباری اور صاحب حثیت اراکین کا  ماہانہ  چندہ ،   چندہ رکنیت،  اور مخیر سادات  کی طرف سے  مالی معاونت۔   فنڈز کی بلا سود بنکاری  یا  منافع بخش کاروبار میں سرمایہ کاری۔  صاحب ثروت سادات سے ہنگامی چندہ اور عطیات ۔ فلاحی امور کے لئے مختص سرکاری فنڈز ۔

**********************************

اہدافObjectives .

۱۔ اللہ اور رسوُل ﷺ کے احکامات کی روشنی میں اور اسلاف کے نقش قدم پر چل کر دینِ اسلام اور شریعت محمدیﷺ کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا   ۔ 

۲۔معاشرے میں شانِ اسلام، حرمت رسولﷺ اور تقدیس ِاھل بیت   کاعملی مظاہرہ  اور ان اقدار کا پرچار۔

۳۔ وسائل کی کمی یا دیگر وجوہات کی بناء پر دینی اور دنیاوی طور پر پسماندہ  خاندانوں یا افراد کو معیاری زندگی فراہم کرنے کی

جدو جہد۔

۴۔ مستحق خاندانوں کی تعلیم، صحت اور شادی و مرگ میں مالی واخلاقی امداد، مستحق بچوں  اور بچیوں کو تعلیم اور ہنر مندی  کے مواقع کی فراہمی۔

۵۔ کسی مجبوری،  کم علمی،  یا دیگر وجوہات   مثلاََ   مادہ پرستی، جدت پسندی،  دین سے دوری اور لاعلمی،  روایات سے بیزاری  اور دور حاضر کی واہیات   رسوم سے متاثر ہو کر سید زادیوں کا غیر سید سے نکاح،  رشتے ناطے  اور اختلاط کی روک تھام  ، اور ایسے دیگر حرمتِ اہلِ بیت  کے خلاف اقدامات  کی حوصلہ شکنی و سرکوبی۔

۶۔ بیواؤں، یتیموں،  معذور، بے سہارا اور مستحق  افراد کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات۔

۷۔ مستحق یتیم اور بے سہارا بچوں اور بچیوں کے رشتوں کی تلاش اور زندگی کا آغاز کرنے میں معاونت۔

۸۔  بے روزگار خاندانوں کے لئے زریعہ معاش کی تلاش، نشاندہی، اور فراہمی۔

۹۔  ضرورت مند ،مستحق افراد یا خاندانوں کی قانونی مدد اور مشاورت ، نیز انصاف کی فراہمی کے لئے بلا معاوضہ خدمات۔ غربت ، معاشی اور اقتصادی کمزوری کی وجہ سے استحصال کا خاتمہ۔

۱۰۔ سادات کے باہمی تنازعات  کا حل اور منصفانہ فیصلے۔

۱۱۔ علاقائی، طبقاتی، اور قبائلی تعصبات کے خا تمے کے لئے منظم کوشش اور حقدار کی آواز بلند کرنا۔

۱۲۔ کار کردگی کے علاقوں میں تمام سادات گیلانی خاندانوں کا شمار،  اہل خانہ کی تعداد ،   زرائع آمدن،

وسائل،   غیر شادی شدہ بچوں اور بچیوں کا شمار،   تعلیمی قابلیت،  فنی صلاحیت اور ہنر مندی جیسے ریکارڈ کو جمع کرنا۔

۱۳۔ تمام علاقوں سے حاصل شدہ ریکارڈ کی روشنی میں  شجرہ نسب کی ترتیب اور اندراج کرنا۔

۱۴۔ تمام ذیلی تنظیموں کو تازہ ترین نسب نامے کی نقول کی فراہمی۔

۱۵۔ غیر مصدقہ یا جعلسازی  کے ذریعے خود کو سادات ظاہر کرنے والوں کو بے نقاب اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا۔

(اہداف میں اضافے کی گنجائش موجود ہے)

***************************************************

بناوٹ Formation .

 

۱۔مجلس شُوریٰ Bunch Of Directors (BODs)

) یا  ۔ مشاورتی کونسل  کہلائے گی)

بناوٹ

   ۱۔                    اس میں ہر علاقے ،  اور خطے سے بقدر آبادی  اراکین شامل ہوں گے۔  ان کی تعداد مخصوص نہیں ہو گی بلکہ  دائرہ کار کی وسعت کے ساتھ اس میں بھی توسیع ہوتی جائے گی۔

۲۔ اس مجلس کے اراکین  اپنا  ایک  چئیرمین  باہمی مشاورت سے منتخب کریں گے۔

رکنیت

ـ ـ ہر  وہ شخص یا اشخاص جن کو علاقے کے لوگ اتفاق رائے سے مجلس شُوریٰ کے لئے تجویزکریں۔

ـ ـ ہر وہ فرد یا افراد جو خدمت خلق کے جذبے سے  مثبت اور مفیدکردار ادا کرنے کا اہل اور خواہش رکھتا ہو۔

ـ ـ  شُوریٰ کی رکنیت کے لئے ممبر کا گیلانی خاندان سے تعلق ضروری ہے۔

ـ ـ رکنیت کے لئے عمر کی کم از کم حد تیس (30) سال ہو گی۔

ـ ـ مجوزہ شخص کسی قانون شکنی کا مرتکب ،  یا مطلوب نہ ہو۔  نیز  بنیادی شرعی احکامات سے واقفیت رکھتا ہو۔

ذمہ داریاں  و اختیارات

۱۔اس کا کم از کم ایک  سہہ ماہی، ششماہی یا سالانہ اجلاس ہو گا ۔ ( باہمی مشاورت  سے وقت کا تعین کیا جائے گا)۔

۲۔اس اجلاس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اراکین اپنی شرکت کو یقینی بنائیں گے اور ہر دو اجلاسوں کے درمیان ہونے والی پیش رفت  کا جائزہ لے کر آئندہ  کے لئے لائحہ عمل طے کریں گے۔

 ۳۔کسی ہنگامی صورت حال یا ضرورت کے تحت مجلس عاملہ اور انتظامیہ مشترکہ طور پر مجلس شوریٰ کا ہنگامی اجلاس طلب کرسکیں گے۔ انتظامیہ اور عاملہ کسی بڑے فیصلے، عمل اور اقدامات  کے لئے عدم اتفاق کی صورت میں معاملے کو مجلس شوریٰ  میں پیش کر ے گی اور مجلس شوریٰ اکثریت رائے سے معاملات  کی توثیق ،تنسیخ   ، تصدیق یا تردید کرے گی۔ یہ فیصلہ حتمی ہو گا اور انتظامیہ و عاملہ ان فیصلوں کے پابند ہوں گے۔

۴۔ مجلس عاملہ یا انتظامیہ کے کسی عہدے کے لئے ایک سے زائد امیدواروں کی صورت میں انتخاب کے لئے  کمیٹی تشکیل دے گی۔  اور انتخابات کی نگرانی کرے گی۔

۵۔ مجلس عاملہ یا انتظامیہ  کے کسی بھی تنازعے کا فیصلہ کرے گی اورمجالس یا عہدیداران کی تجاویز پر عدم اتفاق کی صورت میں حتمی رائے دے کر فیصلہ کرے گی۔

۶۔ رکنیت سازی کا طریقہ کار وضع کرے گی اورچندہِ رکنیت کا تعین کرے گی۔

۷۔ بڑے معاملات یا ضروریات کے پیش نظر انتظامیہ، عاملہ، شوریٰ  اور عام اراکین  کی انفرادی یا مشترکہ کمیٹی تشکیل دے کر اضافی امور  اور ذمہ داریوں  کی ادائیگی کو یقینی بنائے گی۔

۸۔ ابتدائی تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل کے بعد مجلس شوریٰ نگران اور مشیر کے طور پر کام کرے گی۔

(ذمہ داریوں اور اختیارات میں تصحیح، کمی، بیشی اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہے)

**********************************

۲۔مجلس عاملہGeneral Body .

ــشوریٰ مقامی یا فوری طور پر دستیاب ہونے والے چند معززین جو عمر میں بڑے ہوں ،ان کو بطور مجلس عاملہ منتخب کرے گی۔ ان کا انتخاب یا چناؤ مجلسِ شوریٰ کے اراکین،   نئے افراد یا  دونوں کے مرکب  سے کیا جائے گا۔اراکین کی اہلیت کی وہی شرائط ہوں گی جو مجلس شوریٰ کی رکنیت کے لئے ہیں۔

ــ مجلس عاملہ دو ایسے افراد کو بطور سرپرست اول اور دوم منتخب کرے گی جو مجلس انتظامیہ کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں رہیں گےاور انتظامیہ کے روزمرہ  کے کاموں، بیٹھکوں (میٹنگز) اور دیگر کارکردگی میں شریک رہیں گے۔  ــمجلس عاملہ اور انتظامیہ مہینے میں کم از کم ایک  مشترکہ بیٹھک کریں گے اور کارگذاری سنیں گے۔ روزمرہ کے معاملات کا جائزہ لیں گے اور مختصر دورانیے کی منصوبہ بندی میں مجلس انتظامیہ  کو مشورہ اور ہدایات دیں گے۔

ــمجلس عاملہ کے اراکین کی تعداد بشمول سر پرست 8 سے 18 تک ہوگی۔

ــ چھوٹے معاملات ، مقامی سطع کے روز مرہ کے معاملات کے لئے مجلس شوری ٰ کے اختیارات، مجلس عاملہ کو بھی حاصل ہوں گے۔

(ذمہ داریوں ،تعداد اور اختیارات میں تصحیح، کمی، بیشی اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہے)

**********************************

 

۳۔مجلس انتظامیہAdministrative Body .

بناوٹ

یہ مجلس صدر، نائیب صدور، سیکریٹری جنرل  اور ڈپٹی سیکریٹریز ، مالیات اور ابلاغ پر مشتمل ہو گی۔ اس کے عہدیداران کا انتخاب مجلس شوریٰ ، عاملہ، اور اراکین  کی باہمی مشاورت یا ایک عہدے کے لئے ایک سے زائد امیدوار کی صورت میں خفیہ رائے شماری سے کرے گی۔  عہدیداری کی شرائط وہی ہوں گی جو مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے لئے ہیں۔ البتہ عمر کی کم از کم حد 25 سال ہوگی۔

 ذمہ داریاں 

ـــ روزمرہ کے امور کی انجام دہی اس مجلس کی ذمہ داری  ہو گی۔

ـــ متفقہ فیصلوں پر عملدرامد کو یقینی بنائے گی۔

ـــ لوگوں سے روابط، چندے کا حساب، بنکنگ ، اخراجات کا تخمینہ، رکنیت سازی اور ایسے دیگر تما م امور کی انجام دہی اس مجلس کے فرائض میں شامل ہوں گے۔

ـــمستحق افراد تک رسائی، ان کی نوعیت۔ ضرورت، اور درکار وسائل کا تعین،  اس کی ذمہ داری ہو گی۔

ـــ حکومتی، اور دیگر با اختیار اداروں سے معاونت کا تعین، طریقہ کار، اور حصول کے لئے لائحہ عمل کی ترتیب اسی مجلس کے فرائض میں شامل ہو گا۔

ـــ تنظیم کا ریکارڈ  ( مالی ،دفتری،اثاثہ جات، آمد و خرچ ، رکنیت ،  انفرادی و اجتماعی )بصورت مسودہ جات یا دستاویزات   ۔  بصورت فائل، یا کمپیوٹر ڈیٹا، ترتیب دینا، محفوظ رکھنا اور بوقت ضرورت مہیا کرنا اس مجلس کی ذمہ داری ہوگی۔

ـــ آمد و خرچ کا ششماہی آڈٹ کروانا اور اس کی نقول مجلس شوری ٰ تک پہنچانا اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہو گا۔

**********************************

صدر

طریقہ انتخاب۔

اراکین کی طرف سے تجویز کیا جائے گا۔ واحد امیدوار کی صورت میں اس  کا چناؤ  اراکین مجلس عاملہ و  مجلس شوریٰ  کریں گے۔ ایک سے زائد تجاویز  یا امیدواروں کی صورت میں  تشکیل کردہ  انتخابی کمیٹی کی زیرِ نگرانی خفیہ رائے شماری  سے کیا جائے گا۔

ذمہ داریاں

ـــــ تنظیم کی نمائندگی کرے گا۔

ـــــ تنظیم کی ترجمانی کرے گا۔

ـــــ تنظیم  کی طرف سے رابطہ کار ی کرے گا۔

ـــــمجلس انتظامیہ کی نگرانی کرے گا۔

ـــــ منصوبوں کی نگرانی کرے گا۔

ـــــ مجلس انتظامیہ کی بیٹھکوں ( میٹنگز) کی صدارت کرے گا۔

ـــــ مجلس انتظامیہ ، عاملہ اور شوریٰ کے درمیان رابطہ کاری کرے گا۔

(ذمہ داریوں اور اختیارات میں تصحیح، کمی، بیشی اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہے)

نائب صدور

نائب صدور کی تعداد 2 سے 3 تک ہو گی۔ ان عہدوں کو نائب صدر اول ، دوم اور سوئم  سے موسوم کیا جائے گا۔

صدر کی عدم موجودگی یا عدم دستیابی کی صورت میں صدر کے خلا ٔ کو  بالترتیب  پورا کریں گے۔

صدر کے تمام اختیارات  حاصل ہوں گے۔

سیکریٹری جنرل

ـــتنظیم کے تمام ریکارڈ کا امین ہوگا۔

ـــتنظیم کے دفتر ، یا دفاتر کا ذمہ دار ہوگا۔

ـــ ریکارڈ کی ترتیب اورتحفظ کا ذمہ دار ہوگا۔

ـــ اجلاسوں اور میٹنگز کے ایجنڈے بنانے اور ترتیب دینے  کا ذمہ دار ہوگا۔

ـــ اجلاسوں اور میٹنگز کی یاد داشتوں      Minutes Of the Meetings    کو رقم کر کے محفوظ رکھے گا۔

ـــ اجلاس یا میٹنگ میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دے گا۔

ـــ مہمانوں اور مدعو شخصیات کو کیفیت، مقدمہ اور خلاصہ بیان کرے گا۔

(ذمہ داریوں اور اختیارات میں تصحیح، کمی، بیشی اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہے)

جوائنٹ سیکریٹری

 دفتری امور میں جنرل سیکریٹری کی معاونت کرے گا۔

جنرل سیکریٹری کی عدم موجودگی میں اس کی تمام ذمہ داریوں کو ادا کرے گا اور اختیارات استعمال کرے گا۔

سیکریٹری مالیات

چندے یا فنڈنگ  کی وصولی،  آمد و خرچ  کا حساب کتاب ، بنک کا ریکارڈ  اور عندالطلب  اس ریکارڈ کی فراہمی سیکریٹری مالیات کی ذمہ داری ہوگی۔

سیکریٹری نشر و اشاعت

تنظیم کی کارکردگی، اور کارہائے نمایاں کا  مشتہر کرنا،  پرچار کرنا اور آگہی فراہم کرنا  سیکریٹری  نشر و اشاعت کی ذمہ داری ہوگی۔

ابلاغ عامہ سے رابطے اور مراسلہ جات کی تحریر،  اشاعت   اس کی ذمہ داری ہو گی۔

**********************************

ذیلی تنظیمیںSub Divisional Societies .

تنظیم السادات گیلانیہ  بڑے پیمانے پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اس لئے اس کی ضلعی اور تحصیل کی سطع پر ذیلی کمیٹیاں مقامی لوگوں کی مشاورت سے  ترتیب دی جائیں گی۔ ضرورت کے مطابق ڈھانچے میں معمولی تبدیلیاں بعید از امکان نہیں  اور مناسب تبدیلیوں کی گنجائش موجود رہے گی۔  ان مقامی تنظیموں یا کمیٹیوں کا مرکزی تنظیم سے مستقل رابطہ رہے گا۔

مرکزی تنظیم کے متفِقہ فیصلوں کی پابندی تمام ذیلی تنظیموں پر لازمی ہو گی۔

مقامی ریکارڈ ، (قلمبنداندراج)  آڈٹ  (پڑتال ) اور دیگر مواد کی دستاویزی نقول  مرکزی تنظیم کے دفتر میں فراہم کرنا لازمی ہو گا۔

(اس منشور میں تبدیلی، تصحیح اور اضافے کی گنجائش موجود ہے)

**********************************

 

عام رکنیت

تنظیم السادات گیلانیہ جس قدر علاقے یا خطے میں کام کرے گی اس میں سکونت رکھنے والے تمام افراد مرد و زن بلا تخصیص اس کے رکن ہوں گے۔ اور وہ  اپنی مدد کے لئے تنظیم سے رابطہ کر سکیں گے۔ البتہ  شریعت یا قانون کی سریع خلاف ورزی اور خاندانی روایات سے بغاوت کرنے والے فرد،افراد یا گروپ کی رکنیت منسوخ تصور کی جائے گی اور ایسے فرد یا افراد سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جائے گا۔

دوسروں کے ساتھ بانٹیں
  • 1
    Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دوسروں کے ساتھ بانٹیں
  • 1
    Share
en_USEnglish
en_USEnglish