پیٹ کے کیڑے

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

بچوں کے پیٹ میں کیڑے پیدا ہونے کی. وجوہات اور احتیاط

Saad waheed Gilani

پیٹ میں کیڑے

پیٹ میں کیڑے ایک ایسی شکایت ہے جس کے زیادہ تر شکار پانچ سے نو سال تک کے بچے ہوتے ہیں لیکن یہ اس سے چھوٹے بچوں کو بھی ہوسکتی ہے ۔یہ ان میں بے چینی جیسی عمومی پریشانی پیدا کرنے کے علاوہ ان کے پیٹ میں درد ‘ حتیٰ کہ خون کی کمی کا باعث بھی بن سکتے ہیں.

بچوں کو اپنے سامنے نشوونما پاتے دیکھناوالدین کے لئے بہت خوشگوار اور خوبصورت تجربہ ہوتا ہے ۔اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ ان کا بچہ جب چلنا شروع کر دے گا تو ان کی ذمہ داریوں اوربچے کے کچھ مسائل میں کمی آ جائے گی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے‘ اس لئے کہ ان کی صرف نوعیت بدلتی ہے۔

مثال کے طور پر※

بچہ جب ماں کی گود میں یا بستر پر رہتا ہے تووہ جراثیم سے نسبتاً زیادہ محفوظ رہتاہے۔ جب وہ چلنا شروع کرتا ہے توآغاز میں ننگے پاو ں فرش پر چلتا ہے اور جو چیز ہاتھ لگے‘ اسے اٹھا کرمنہ میں ڈال لیتا ہے۔اس وجہ سے بچے کے معدے میں مسائل پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ بظاہر تمامتر احتیا ط کے باوجود کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی بداحتیاطی ہو ہی جاتی ہے.کہ ۔پیٹ کے کیڑے  عموماً پانچ سے نو سال تک کے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں لیکن یہ اس سے چھوٹےبچوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔ کیڑوں کی تین بڑی اقسام چلونے )

thread worms   (چلونے )

round worms  (کیچوے )

(tape worms )  (کدو دانے)

 

باریک    دھاگے کی طرح کے چلونے کیڑوں کی لمبائی بالعموم چوتھائی انچ سے ایک انچ تک ہو سکتی ہے ۔یہ رنگت میں سفید ہوتے ہیں اور زیادہ تر انتڑیوں اورپاخانے کی جگہ یعنی مقعد( میں پائے جاتے ہیں۔یہ تیزی سے حرکت کرتے ہیں ۔ جس فرد کے پیٹ میں یہ کیڑے ہوں‘

ان میں مندرجہ ذیل علامات پائی جاتی ہیں :٭△

مقعد کے آس پاس خارش کا ہونا۔

٭بھوک کا بہت زیادہ لگنا

۔٭سانس کا بدبو دار ہونا۔

٭ دانت پیسنا۔٭ناک کھجانا ۔

٭بچے کا مسلسل بے چینی محسوس کرنا۔

کیچوےیہ کیڑے لمبائی میں عموماً4 انچ سے 15 انچ تک بڑے اور موٹائی میں تقریباً سوا انچ ہوتے ہیں جو بالعموم آنتوں اور معدے میں پائے جاتے ہیں۔یہ عام طور پر قے آنے کی صورت میں یا پاخانے کے راستے خارج ہو تے ہیں۔

ان کی موجود گی میں مندرجہ ذیل علامات سامنے آتی ہیں :

٭پیٹ میں درد٭پیٹ میں سوزش

٭چہرہ کی رنگت کا زرد

ہونا٭دانت پیسنا٭بدبو دار اسہال

٭منہ سے رال کا بہنا ) ایسا زیادہ تر سوتے میں ہوتاہے

۔(کدو دانے. یہ کیڑے ایک انچ سے 50انچ تک لمبے ہو سکتے ہیں۔ ان کی رہائش کا مقام چھوٹی آنت ہے لیکن بعض دفعہ ان کا کوئی ٹکڑا کٹ کر پاخانے کے راستے خارج ہو جاتا ہے۔ان کا سر آنت کے ساتھ چپکا رہتا ہے

۔یہ کیڑے مندرجہ ذیل علامات کا باعث بنتے ہیں○

:٭ پیٹ میں درد۔٭پیٹ میں بوجھ محسوس ہونا ۔٭ناف والی جگہ سے پیٹ کا بڑھا ہوا ہونا

۔پیچیدگیاں مندرجہ بالابتائی گئی علامات ابتدائی نوعیت کی ہیں۔ اگر پیٹ میں موجود ان کیڑوں کی بروقت تشخیص اورپھر علاج نہ کیا جائے توپیٹ میں مستقل اورشدید درد کا مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ یہ کیڑے انسانی خون پر پلتے ہیں لہٰذا ان کی موجودگی سے انسانی جسم میں خون کی کمی سمیت کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔

وجوہات☆

بچوں کے پیٹ میں کیڑے پیدا ہونے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں:

٭ میٹھی اشیا ءکا زیادہ استعمال ۔

٭خراب سبزی یا گوشت کھانا۔

٭سبزی یا گوشت کا مکمل طور پرپکا ہوا نہ ہونا۔

٭آلودہ پانی پینا یا واش روم میں گندا پانی استعمال کرنا۔

٭زمین پر ننگے پاؤں  گھومنا۔

٭غذا کو اچھی طرح چبا کر نہ کھانے کی عادت۔

علاج معالجہ☆

علاج کے طور کچھ بچوں کودن میں تین بار صبح ،دوپہر ،شام( پینے کے لئے ادویات دی جاتی ہیں جبکہ کچھ کو ہفتہ میں ایک بار پلائی جاتی ہیں۔بعض والدین بلا ضرورت یا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہی بچوں کو کیڑوں کی دوا پلا دیتے ہیں ۔ایسا نہیں کرنا چاہئے‘ اس لئےکہ دوا کی ضرورت او رخوراک کی مقدارکا فیصلہ معالج حضرات مریض کے معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد ہی کرتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر☆

مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے بچوں کو ان سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے:

٭انہیں تازہ ،صاف ستھری اور مکمل طورپرپکی ہوئی غذا کھلائیں۔

٭اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کھانے سے پہلے اور بعد میں لازماًہاتھ دھوئیں ۔

٭ بچوں کو فرش پر ننگے پاؤں چلنے سے روکیں۔

٭انہیں پینے کے لئے ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی دیں ۔

٭انہیں نہلانے یادھونے کے لئے صاف پانی استعمال کریں۔

٭بچوں کے ناخن باقاعدگی سے کاٹیں۔

دوسروں کے ساتھ بانٹیں