چند اصول

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

ان باتوں کو اپنا معمول بنا کر بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے

SAAD WAHEED GILANI

کون ہے جو بیمار ہونا چاہتا ہے؟‏

بیماری. نہ صرف اِنسان کا جینامشکل کردیتی ہےبلکہ انسان معاشرے میں اپنے آپ کو کمزور , بے کس اور مجبور سمجھتا ہے ۔ اِس کی وجہ سے آپ کی طبیعت بیزار رہتی ہے،‏ آپ کام پر یا سکول نہیں جا سکتے،‏ کمائی نہیں کر سکتے اور اپنے گھر والوں کی دیکھ بھال بھی نہیں کر سکتے۔‏ اُلٹا دوسروں کو آپ کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ کو علاج اور دوائیوں پر بھاری رقم خرچ کرنی پڑے۔‏کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”‏پرہیز علاج سے بہتر ہے۔‏“‏ کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن سے ہم بچ نہیں سکتے۔‏ پھر بھی آپ کچھ ایسی احتیاطی تدابیر کر سکتے ہیں جن سے بعض بیماریوں میں مبتلا ہونے کا اِمکان یا تو کم ہو سکتا ہے یا پھر بالکل ختم ہو سکتا ہے۔‏ آئیں،‏ پانچ ایسے طریقوں پر غور کریں جن پر عمل کرنے سے آپ اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

(1)

ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھویں ☆

بہت سے صحت کے اِداروں کے مطابق ہاتھ دھونا بیماریوں اور اِن کے پھیلاؤسے بچنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔‏

عام طور پر لوگوں کو [نزلہ،‏ زکام اور فلو] اِس لیے ہوتا ہے کیونکہ وہ گندے ہاتھوں سے اپنی ناک یا آنکھوں کو ملتے ہیں۔‏ اِن بیماریوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ دن میں اکثر ہاتھ دھوئیں۔‏

حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے تو آپ زیادہ سنگین بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں جیسے کہ ***نمونیا اور دست.. وغیرہ۔‏ ایسی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال 20 لاکھ سے زیادہ بچے موت کا شکار ہوتے ہیں جن کی عمر پانچ سال سے کم ہوتی ہے۔‏ ہاتھ دھونے کی معمولی عادت اپنانے سے ایبولا جیسی جان لیوا بیماری کے پھیلنے کا اِمکان بھی کم ہو سکتا ہے۔‏بعض صورتوں میں ہاتھ دھونا بہت ہی ضروری ہوتا ہے تاکہ ہماری یا دوسروں کی صحت کو خطرہ لاحق نہ ہو،‏

مثلاً:‏*.

ٹائلٹ اِستعمال کرنے کے بعد

.بچوں کے پیم پر بدلنے یا اُنہیں پیشاب یا پاخانہ کرانے کے بعد*.

کسی زخم پر مرہم پٹی کرنے سے پہلے اور اِس کے بعد

.کسی بیمار شخص سے ملنے سے پہلے اور ملنے کے بعد

.سبزیاں یا گوشت وغیرہ کاٹنے،‏ پکانے،‏ کھانے اور دوسروں کو پیش کرنے سے پہلے

چھینک مارنے،‏ کھانسی کرنے یا ناک صاف کرنے کے بعد

کسی جانور یا اُس کے فضلے کو چُھونے کے بعد

.کوڑا کرکٹ پھینکنے کے بعد

یاد رکھیں کہ ہاتھ دھونے کا مطلب یہنہیں کہ آپ کے ہاتھ واقعی صاف ہو گئے ہیں۔‏ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو لوگ عوامی ٹائلٹ اِستعمال کرتے ہیں،‏ اُن میں سے بہت سے یا تو ہاتھ دھوتے ہی نہیں اور اگر دھوتے ہیں توصحیح طرح نہیں دھوتے۔‏

ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟‏*

.پہلے نلکے کے نیچے ہاتھ رکھ کر اِنہیں اچھی طرح گیلا کریں اور پھر صابن لگائیں۔‏*.ہاتھوں کو اچھی طرح مل کر جھاگ بنائیں،‏ ناخن صاف کریں،‏انگوٹھے صاف کریں،‏ ہاتھوں کی پُشت اور اُنگلیوں کے درمیان خلاکو صاف کریں۔‏*.کم ازکم 20 سیکنڈ تک ہاتھ ملتے رہیں۔‏*.صاف پانی سے دھوئیں۔‏*.ٹشو یا صاف تولیے سے ہاتھ خشک کریں۔‏یہ ساری باتیں معمولی لگتی ہیں لیکن یہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور لوگوں کو موت کے مُنہ میں جانے سے بچا سکتی ہیں۔

(2)

صاف پانی کا استعمال

صاف پانی بھی ہمارے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینے کے لیے آکسیجن.

.سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے جو پانی ہم پیتے ہیں کیا یہ صاف ہے؟کیا اس کے ہمارے جسم پر مضر اثرات تو نہیں؟

نہیں بلکل نہیں جو پانی ہم استعمال کر رہے ہیں یہ صاف نہیں.اور اس کے ہمارے جسم پر بہت سے مضر اثرات ہیں اور بہت سی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں

ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک میں زیادہ تربیماریاں مضرِ صحت پانی سے پیدا ہورہی ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ بیکٹیریا سے آلودہ پانی ملک میں

ہیپاٹائٹس، خسرے اورہیضہ ☆

جیسی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے جبکہ پانی میں آرسینک کی زیادہ مقدار

ذیابیطس، سرطان، پیدائشی نقص،گردوں اور دل کی بیماریوں کا موجب ہے۔

اسی طرح صنعتی شہروں میں کیمیائی مادوں کی پانی میں ملاوٹ ہونے کے باعث لوگ

یرقان،جلد اور سانس کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسکے علاوہ آلودہ پانی گیسٹرو، ٹائیفائیڈ، انتڑیوں کی تکالیف، دست، قے ، خون آنا اور آنکھوں سمیت بالوں کی مختلف بیماریاں کا بھی باعث بنتا ہے۔

پینے کے پانی میں دھاتوں کی آمیزش بچوں کی ذہنی اورجسمانی نشونما پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ہر سال تقریباََ دو لاکھ تیس ہزار بچے مضرِ صحت پانی کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ملک کے مختلف علاقوں میں مضر صحت پانی کے استعمال سے ڈائریا کے سالانہ دس کروڑ کیسز ریکارڈ کیے گئےہیں

(3)

کھانے میں احتیاط

اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ آپ متوازن اور غذائیت بخش خوراک کھائیں۔‏ اِس بات کا خیال رکھیں کہ آپ بہت زیادہ نمک،‏ چکنائی اور چینی اِستعمال نہ کریں اور ایک ہی وقت میں حد سے زیادہ کھانا نہ کھائیں۔‏ اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں ضرور شامل کریں اور کوشش کریں کہ آپ ہر روز ایک ہی طرح کی غذا نہ کھائیں۔ اگر ممکن ہو تو ہفتے میں ایک دو بار مچھلی کھائیں۔‏اگر آپ چکنائی سے بھرپور اور میٹھی غذائیں بہت زیادہ اِستعمال کرتے ہیں تو آپ موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔‏ اِس لیے میٹھے مشروب پینے کی بجائے پانی اِستعمال کریں اور میٹھے پکوان کی جگہ پھل اِستعمال کریں۔‏ گوشت،‏ مکھن،‏ پنیر،‏ کیک اور بسکٹ وغیرہ بھی کم لیں کیونکہ اِن میں بھی چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔‏ اور کھانا پکانے کے لیے گھی یا چربی اِستعمال کرنے سے بہتر ہے کہآپ کوئی اچھا تیل اِستعمال کریں۔‏کھانے میں بہت زیادہ نمک لینے کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے جو نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔‏ اگر آپ اِس مرض میں مبتلا ہیں تو اپنے کھانے میں نمک کی مقدار کم کریں اگر کھانا صحیح طرح پکایا نہیں گیا یا پھر اِسے اچھی طرح محفوظ نہیں کِیا گیا تو اِس سے فوڈ پوائزننگ یعنی شدید پیٹ خراب اور اُلٹیاں ہو سکتی ہیں۔‏عالمی اِدارۂ صحت کے مطابق ہر سال لاکھوں لوگ اِس طرح کا کھانا کھانے کی وجہ سے شدید بیمار ہو جاتے ہیں۔‏ زیادہ تر لوگ تو جلدی ٹھیک ہو جاتے ہیں مگر کچھ اِس کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔‏

آپ اِس سے بچنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏*.

سبزیاں اکثر کھاد ملی مٹی میں اُگتی ہیں۔‏ اِس لیے اِنہیں اِستعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح دھولیں۔‏*.سبزیاں یا گوشت وغیرہ کاٹنے سے پہلے اپنے ہاتھ،‏ چھری،‏ برتن اوراُس جگہ کو اچھی طرح دھوئیں جہاں رکھ کر آپ اِنہیں کاٹیں گے۔‏ اِس کےلیے گرم اور صابن والا پانی اِستعمال کریں۔

(4)

باقاعدگی سے ورزش کریں

آپ کی عمر چاہے جو بھی ہو،‏ صحتمند رہنے کے لیے باقاعدگی سے ورزش کرنا ضروری ہے۔‏ آج کل بہت سے لوگ اُتنی ورزش نہیں کرتے جتنی اُن کے لیے ضروری ہوتی ہے۔‏ ورزش کرنا اِتنا اہم کیوں ہے؟‏ ورزش کرنے سے .‏ .‏ .‏

*.نیند اچھی آتی ہے۔‏

*.جسم لچک دار رہتا ہے۔

‏*.ہڈیاں اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔‏

*.وزن کم ہوتا ہے یا مناسب رہتا ہے۔

‏*.ڈیپریشن ہونے کا خطرہ کم رہتا ہے۔‏*.کم عمر میں مرنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

‏ورزش نہ کرنے کی وجہ سے .‏ .‏ .‏

*.دل کی بیماری ہو سکتی ہے۔‏*.ذیابیطس ہو سکتی ہے۔‏

*.بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔‏

*.کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے۔‏*.

فالج ہو سکتا ہے۔

‏آپ کو اپنی عمر اور صحت کے مطابق ورزش کرنی چاہیے۔‏  ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو ہر روز کم ازکم ایک گھنٹہ کھیل کود کرنی چاہیے۔‏ بالغوں کو ہر ہفتے ڈھائی گھنٹے ہلکی پھلکی ورزش یا پھر سوا گھنٹہ کوئی بھی کھیل کرنا چاہیے ۔‏ آپ دوڑنے جا سکتے ہیں،‏ تیراکی کر سکتے ہیں،‏ تیز تیز چل سکتے ہیں یا پھر سائیکل چلا سکتے ہیں۔

(5)

نیند پوری کریں

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہماری نیندکی مقدار بھی بدلتی جاتی ہے۔‏ نوزائیدہ بچے دن میں 16 سے 18 گھنٹے سوتے ہیں؛‏ ایک سے تین سال کا بچہ 14 گھنٹے سوتا ہے اور تین یاچار سال کا بچہ 11 یا 12 گھنٹے سوتا ہے۔‏ سکول جانے والے بچوں کو کم ازکم 10 گھنٹے،‏ نوجوانوں کو تقریباً 9 یا 10 گھنٹے اور بالغوں کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔‏ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم جتنے بھی گھنٹے سوئیں،‏ اُس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔‏ ماہرین کے مطابق بھرپور نیند سونا .‏ .‏ .

*.بچوں اور نوجوانوں کی نشوونما کےلیے ضروری ہے۔‏

*.نئی باتیں سیکھنے اور یاد رکھنے کے لیے ضروری ہے۔‏*

.ہارمونز کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے جو ہمارے وزن اور جسم میں خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔‏

*.دل کی صحت کے لیے ضروری ہے۔‏*

.بیماریوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔

‏نیند کا پورا نہ ہونا☆

موٹاپے،‏ ڈیپریشن،‏ دلکی بیماری،‏ شوگر اور جان لیوا حادثوں کا باعث بنتا ہے۔

‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھرپور نیند سونا کتنا اہم ہے۔‏لہٰذا اگر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی نیند پوری نہیں ہوتی تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏*

.ہر روز سونے اور جاگنے کا ایک وقت طے کریں۔‏*.سوتے وقت اپنے کمرے میں خاموشی اور اندھیرا رکھیں۔‏ کمرا زیادہ ٹھنڈا یا زیادہ گرم نہ ہو۔‏*.بستر پر لیٹنے کے بعد ٹی وی نہ دیکھیں ۔

دوسروں کے ساتھ بانٹیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *