لوٹ آؤ:

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

لوٹ آؤ:

لوٹ آؤ!

تحریر:محمدنویدگیلانی ۔

وہ صبح نہار فقط اپنے بوسیدہ بستر سے نیچے اُترتا ہے ۔
رہی بات جاگنے کی تو، وہ سوتا ہی کب ہے جو جاگے گا؟
مامے طافو کی بہو ایک عدد خشک روٹی اور صرف ایک کلاس چائے لا کر اسکے منڈیر پہ رکھ دیتی ہے ۔
وہ بھی اس ڈر کے مارے !
مامے طافو نے سختی سے ایک بار نہیں ہزار بار سمجھایا ہے؛
نی کُڑیو(ارے لڑکیو)
جہاں تک ہو سکے اس بڈھے کو بھوکا نہ مرنے دینا ۔ ورنہ ہمارا خاندان تباہ و برباد ہو جائے گا،نسلیں بھیک مانیگیں گی ہنستا بستا گھر اجڑ جائے گا!!!
چونکہ یہ بڈھا کمبخت ہمارا پڑوسی ہے ۔ اور سیانے کہتے ہیں پڑوسی کے پڑوسی پہ تین سو ساٹھ360حقوق ہوتے ہیں ۔
مجبوراً مامے طافو کی بہوئیں صرف اسکا گزارے لائق کھانا لا کر اسکی منڈیر پہ ڈال دیتی ہیں!
بعض اوقات یہ بھی انہیں نہیں یاد رہتا ۔
باقی وہ کیا کرتا ہے کیسے جیتا ہے؟
کسی کی جانے بلا ۔

یہ جب اپنے بستر سے اترتا ہے تو اول ٹھنڈی یخ چائے کے ساتھ ایک عدد خشک روٹی گھونٹ لے لے کر حلق سے اتارتا ہے ۔
پھر قبرستان چلا جاتا ہے
اول اپنے اجداد کی قبور پہ فاتحہ پڑھتا ہے ۔
پھر واپس پلٹنے سے پہلے
اپنی شریکِ حیات کی قبر کے رُوبرُو دوسری قبر سے ٹیک لگا کر کچھ اس انداز سے بیٹھ جاتا ہے
جیسے میلوں کی مسافت طے کرکے تھکن سے چُورچُور ابھی آکر اپنے آنگن میں پہنچا ہو اور اپنی شریکِ حیات سے راستوں کی تھکن کا اظہار کرنے لگا ہو!
درحقیقت وہ ہمیشہ اپنی شریکِ حیات کی قبر پہ
آ کر اسے اپنے روبرو تصور کیا کرتا رہا ۔
آج بھی وہ ہمیشہ کی طرح اس سے مخاطب ہوا ۔
سنار ری بھاگاں والیئے! کی حالِ تیرا:
پھر کیا تھا!آسکی آنکھوں سے ایک طویل قطار کود پڑی ۔
وہ اپنے کھُردرے ہاتھوں سے بار بار آنکھیں صاف کرتا اور ٹھہر ٹھہر کر بولتا ہی چلا گیا!

داسُو کی ماں: میں جانتا ہوں تجھے اپنے دونوں پُتر کسقدر یاد آرہے ہیں ۔
ارے بھاگاں والیئے!
تُو کیا سمجھتی ہے میں بھول گیا ہوں؟
وہ جو تُو ہر ویلے اپنی چھاتی پیٹ پیٹ کر بین کر کے کہا کرتی تھی!
او میرے داسُو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
او میرے شوکی !
او میرے بچو: تُم ایک بار لوٹ کر آ تو جاؤ!
پیدا کرنے والے کی قسم! میں تُم دونوں کو ہر جُرم معاف کر دوں گی!
میرے پُتر قسم کھاتی ہوں، میں سب کچھ بھول جاؤں گی ۔
وہ جو تمہاری وجہ سے میری گود سے شیلہ(شکیلہ) میری معصوم بیٹی کو چھینا گیا تھا!
بھول جاؤں گی تمہاری وجہ سے جو ہم لوگ تخت سے گر کر خاک بدر ہوئے ۔
نہیں جتلاؤں گی جو تمہاری وجہ سے تھانوں میں میں نے اور تمہارے عاجز باپ نے پولیس کے ہاتھوں جو ہڈیاں توڑوائیں ہیں سب معاف ۔

او میرے پچو:ایک بار اپنی صورت دکھا دو پھر بھلے تم چلے جانا میرا وعدہ ہے ہر گز تمہیں جانے سے نہیں روکوں گی
آجاؤ!!!
خُدا راہ آجاؤ
آجاؤ میرے بچو لوٹ آؤ!

وہ اپنے میلے کچیلے دامن سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولا!
بھاگاں والیئے: میں کیسے بھول سکتا ہوں وہ تیرے آنسوؤ
اور تیرا اسی حال میں گُھٹ گُھٹ کر اس دنیا سے جانا!
آہا!
مجھے تو یہ بھی چنگی طرح یاد ہے داسُو کی ماں تُو نے پنچ ویریاں(پانچ مرتبہ)مجھے انکی کھوج کیلئے شہر بھیجا مگر انکا مجھے بھی کوئی چِن کُھرا(سُراغ)نہ ملا ۔
یاد ہے سب بلکل یاد ہے داسُو کی ماں! سب یاد ہے!_
وہ آج پھر نئے سرے سے حتمی وعدہ کرتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا!
تُو دل تھوڑا نہ کر داسُو کی ماں میں ان دونوں شیطانوں کو کان سے پکڑ کر آج ضرور تیرے سامنے لیکر آؤں گا ۔ رب راکھا!

وہ وہاں سے پلٹ کر ہر روز کی طرح اُسی راستے پہ آکر کھڑا ہو گیا جس راستے پہ گاؤں سے کوسوں چل کر شہر جانے والی گاڑی تک پہنچا جاتا تھا””
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
جوانی میں یہ شخص ایک جانفشاں مزدور ہوا کرتا تھا ۔
اپنا کماتا تھا اپنا کھاتا تھا اللّٰہ نے اسے کسی کا محتاج نہیں بنایا تھا ۔
اکلوتا تھا اسلئے دادے وراثت کا اکیلا وارث تھا ۔
اللّٰہ نے اول بیوی سے نوازا پھر اولاد جیسی نعمت سے بھی مالا مال ہوا اوپر نیچے دو بیٹے پھر تیسرے نمبر پہ بیٹی!
بیٹوں کو اس نے اپنی بساط سے بڑھ کر پڑھایا ۔
بڑا بیٹا دستار میٹرک کرکے شہر جاکر کسٹم میں ملازم ہوگیا ۔
ادھر چھوٹے بیٹے شوکت نے بھی میٹرک کر لی
اسکے بچے بلا کے حسین و جمیل تھے ۔
دستار کی منگنی گاؤں کی ایک رہیس ذادی سے ہوگئی نہ صرف منگنی بلکہ نکاح بھی صرف رخصتی باقی تھی ۔
مگر کچھ ہی عرصے بعد دستار کسی شہری حسینہ کے چُنگل میں آگیا اور اس نے بلا تاخیر اس سے شادی بھی کر لی ۔
ادھر سابقہ سسرالیوں کو جب خبر ہوئی انہوں نے نہ صرف اسکے ماں باپ کو ذلیل و رسوا کیا بلکہ پنچائت کے ذریعے انکی جائداد بھی ہتھا لی ۔ ابھی انکے دل کے زخموں سے خونہ رس رہا تھا کے ۔چھوٹےبیٹے شوکت نے ایک با اثر خاندان کی
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish
en_USEnglish