اور شیر مرگیا!

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

اور شیر مرگیا!

 

نون بگلہ کی زرخیز و سر سبز و شاداب زمین کی ہریالی کو ایک عرصہ سے ایک منہ زور اور منچلہ؛ گھوڑا روندتا چلا آیا تھا

اس گھوڑے نے جہاں لوگوں کی بہت فصل تباہ کی وہاں جنگل کی بھی ستیاناس کرتا رہا ۔
گھوڑا ہوتا تو سواری کیلئے ہے مگر ۔ آپکو حیرت ہوگی یہ دنیا کا واحد گھوڑا تھا جو ہمارے سادہ لو شرفاء اہلیانِ نون بگلہ کے حواس پہ سوار رہا ۔

پھر تقریباً دوسال قبل اس گھوڑے نے اپنی جنس تبدیل کی ۔ اور شیر کے روپ میں پھر کہیں سے نون بگلہ میں داخل ہوا ۔

اور اس نامراد نے دن دہاڑے نون بگلہ کے نامزد ہائی سکول پہ حملہ کیا ۔
آدھا کلو میٹر سڑک جو کے نون بگلہ بازار کے نصف تک پہنچتی ہے ۔
اس پر پالتی مار کر بیٹھ گیا جسکی وجہ سے گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہوگئی ۔
شیر کے شیر خواروں نے کئی بار سیٹھ چوہدری نصرالدن صاحب کی بکریوں پر بھی دھاوا بولا
بعدازاں اوجڑی جنگل میں مدفون پائی جاتی رہی یا کسی اور ذریعے سے کھوج ضرور نکلتی رہی ۔
اسی طرح کشمیر کا چپہ چپہ ترقی کر گیا مگر نون بگلہ شیر کی دہشت کی وجہ سے اب بھی پتھر کے دور کے مشابہ ہے ۔

یعنی صرف دو تاروں پہ چلنے والا دنیا کا واحد ٹرانسفارمر، بغیر میٹر کے بل ادا کرنے والے زلزلہ ذدگان، صرف ۔ اس شیر کی ڈر سے خوفزدہ تھے

مگراس سال
کسی تیر انداز
نے شاید تنگ آکر برائے نام جنگل میں موقع پاکر
شیر کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نون بگلہ سے ختم کر دیا ۔
اب معلوم ہوا وہ شیر بھی نہیں اسکی لاش شیر کے مشابہ کسی جانور کی ہے ۔
جو بھی تھا بڑا ظالم احسان فراموش ہڈ حرام تھا ۔
شکریہ تیر
تُو نے اس سال کے آخر میں ہمیں وحشی درندے سے نجات دلائی ۔

نوید گیلانی

دوسروں کے ساتھ بانٹیں
  • 1
    Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *