وہ لوٹ کر نہیں آئی

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

وہ لوٹ کر نہیں آئی

وہ لوٹ کر نہیں آئی۔

وحید گیلانی

اتنا یاد ہے کہ میں نے سب سے پہلے اس کی جماہی لینے کی نقل اتاری تھی۔ 

اور وہ میری ہر ضد پوری کرتی۔ کبھی کبھی ناراض ہو جاتی اور پھر بن منائے صلح بھی کر لیتی۔ زندگی کی ہر دھوپ اور ھر سختی کو اس نے اپنے  اوپر لیا لیکن مجھ پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ 

یاد کرتا ہوں تو ایک اک روز کی سینکڑوں یادیں ہیں۔ 

میں پریشان ہوتا تو وہ مجھے اپنے سینے سے لگاتی ۔ پیار کرتی۔ حوصلہ دیتی۔ سچی جھوٹی تسلیاں دے کر میری دلجوئی کرتی۔

اس کی کوشش ہوتی کہ وہ وقت سے کافی پہلے مجھے آنے والے وقت کے اندیشوں سے با خبر کر دیتی۔مجھے بتاتی کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔

میں کبھی کبھی اس کی بات ٹال دیتا۔ یا اپنی مرضی کرنے کی ضد کرتا تو چُپ کر جاتی۔ عاجزی سے میری طرف دیکھتی۔ خاموش نگاہوں سے منتیں کرتی کہ میں اس کی بات پر نظر ثانی کروں۔ 

میں کبھی تلخ لہجہ اختیار کرتا تو حرفِ شکایت زبان سے نہ نکلتا۔ گہرے خاکی رنگ کی صلح جو آنکھوں میں نمی تیرتی۔ یہ نمی کبھی تو وہاں ہی خشک ہو جاتی اور کبھی منہ زور طوفان کی طرح اس کے قابو سے باہر ہو جاتی اور اس کے چمکتے گالوں پر باریک لکیریں بناتی ہوئی اس کے دامن میں جذب ہو جاتی۔

اب مجھے اس کی عادت پڑ گئی تھی۔ میں جدا ہونے کے تصور سے ہی کانپ اُٹھتا تھا۔ اس نے مجھے سنبھال کے، نکھار کے، اور بچا کے رکھا ہوا تھا۔ پتہ نہیں وہ کیوں نہ تو میری عمر کے بڑھنے کو مد نظر رکھتی تھی اور نہ ہی مجھے چھوٹا رہنے دیتی تھی۔

میں گردش حالات میں بکھرنے سے پہلے سمیٹ لیا جاتا تھا۔ پریشان ہونے سے پہلے حوصلہ تیار ہوتا۔ آنسو کے بس میں نہیں تھا کہ وہ کبھی میری آنکھوں سے ٹپکنے کی جسارت کرتے۔ 

لگتا ہے وہ صدیوں سے مجھے ایک نا یاب اثاثے کی طرح سمیٹے اور بغل میں دبائے، اپنے آپ سے بے خبر، دنیا اور اس کی شیرینی، رنگینی سے بے نیاز۔ میرے لٹ جانے، مٹ جانے یا کھو جانے کے ڈر سے بے چین افرا تفری کے عالم میں ہر دم چوکس رہتی تھی۔

مجھے کیا خبر تھی کہ اس کی فطرت وہ نہیں جو نظر آتی ہے۔

اب وہ تھکی تھکی سی تھی۔ اس کی سکت جواب دے گئی تھی۔ لیکن وہ اب بھی ہاتھ بڑھا کے مجھے دلاسا دیتی تھی۔ 

اور ایک شام۔ جب میں شادی کی ایک تقریب سے واپس آیا تو وہ میرے پاس آئی۔ اس کی آنکھیں بجھی بجھی سی تھیں۔ 

وہ میرے پاس بیٹھی۔ مجھے دیکھتی رہی۔ کچھ نہ بولی۔ کچھ نہ کہا 

اور جب میں کھانا کھانے باورچی خانے میں گیا تو چپکے سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

وہ ابھی بھی مجھے بچہ سمجھ رہی تھی۔ 

اس نے کہیں جانا تھا۔ مجھ سے چھپ کر۔ اس نے سوچا میں اسے روکنے کی ضد کروں گا۔

وہ برسوں پہلے کی طرح چھپ کے چلی گئی۔

جیسے وہ چھپ کر ضروری کام سے نکل جایا کرتی تھی۔

وہ چلی گئی۔ مجھ سے چھپ کے

اور لوٹ کے نہیں آئی۔ امید تھی کہ وہ مجھ سے ملنے ضرور آئے گی۔

 لیکن بہت دن ہوگئےہیں۔ میری امی نہیں لوٹی۔

اے میرے رب۔

رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا۔ 

دوسروں کے ساتھ بانٹیں
  • 6
    Shares

One Response

  1. Saadat A Gilani says:

    Yes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *