نُونؔ بگلہ بَرادری

خود انحصاری کمیٹی

اے ایچ ایس فاؤنڈیشن

امید دلاتی ہے

یہ ویب سائیٹ    نون بگلہ     اور اس کے مضافات کے لوگوں کے نام

اردو زبان میں یہ سہولت مقامی لوگوں کو باہمی روابط، ریکارڈ، اور منصوبہ بندی کے لئے فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی خود انحصاری کے لئے تجاویز، مشورے اور شراکت کر سکیں۔ 

اے ایچ ایس فاؤنڈیشن کی کار کردگی، اور سرگرمیوں کے لئے ہماری انگریزی کی ویب سائیٹ پر تشریف لائیں جس کا لنک درج ذیل ہے۔

www.ahsfoundation.co.uk

 ۔2005 کے زلزلے کے بعد ابتدائی ہنگامی امداد کے دوران مشاہدے میں آیا کہ نون بگلہ اور اس کے گرد و نواح میں کوئی طبی سہولت میسر نہیں تھی۔ لوگوں کو دور دراز کے شہروں میں جا کر طبی معائنہ کروانا پڑتا تھا۔ 

اس علاقے کی معاشی حالت بھی ایسی نہیں کہ تمام آبادی دور دراز جا کر طبی معائنہ یا علاج کروا سکیں۔ اس لئے ہمارے چئیرمین ندیم حیدر شاہ نے ایک طویل مدتی ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اور یوں نون بگلہ میں ایک ہسپتال کی بنیاد رکھی گئی۔

 ابتدائی طور پر ایک بڑے منصوبے کے بارے میں سوچا جا رہا تھا، لیکن مقامی قوانین کے مطابق نون بگلہ میں ایک خاص معیار سے زیادہ کی گنجائش نہیں تھی۔ یہ علاقہ دیہی مرکز صحت چکار سے قریب پڑتا تھا اور اس وجہ سے بنیادی مرکز صحت سے زیادہ کا معیار آبادی اور فاصلے کی وجہ سے پالیسی سے متصادم تھا۔ چنانچے اسے پالیسی کے مطابق ہی ترتیب دیا گیا۔

دور دراز کا علاقہ ہونے اور مقامی طور پر طبی عملے کی عدم دستیابی بھی ایک مسلہ رہا ہے۔ لیکن ان تمام نا مساعد حالات کے باوجود 2007 سے یہاں طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

AHS Foundation

بنیادی مرکز صحت

نون بگلہ چکار۔ آزاد کشمیر

اے ایچ ایس فاؤنڈیشن نے اس مرکز صحت کو کم از کم۔ 2 ۔ اور زیادہ سے زیادہ ۔5۔ سال تک اپنی زیرِ نگرانی چلانے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن بعد کے حالات، اور لوگوں کے بے پناہ اصرار کی وجہ سے یہ مرکز ابھی تک فاؤنڈیشن کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ اس دوران مقامی فارماسسٹ کی ٹریننگ اور تربیت کی گئی تاکہ لوگوں کو طبی سہولت بلا تعطل اور بلا تاخیر دستیاب ہو سکے

۔2018۔ کے اواخر میں محکمہ صحت آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ ایک باہمی تعاون کی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد  اس  مرکزِ صحت سے بچوں کو حفاظتی ٹیکے، اور دیگر سرکاری مہمات  میں محکمے کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے

مرکز میں ہنگامی صورت حال میں ذیا بیطس ، ملیریا، اور ٹائیفائڈ کا ٹیسٹ بھی دستیاب ہے۔ عالمی وباء کے دوران لوگوں کو حفاظتی تدابیر اور آگاہی کی مہم بھی چلائی گئی جس کے مثبت نتائج مرتب ہوئے۔کرونا ویکسین کے عارضی کیمپ  لگا کر سو فیصد آبادی کو ویکسینیشن فراہم کی گئی۔

فنڈز کی کمی اور وبا ء کی وجہ سے کساد بازاری کی وجہ سے جولائی 2020 کے بعد تمام مریضوں کو ادویات کی مفت فراہمی  ممکن نہ تھی اس لئے بیوہ خواتین، یتیم بچوں، معذور اور مستحق افراد کے علاوہ باقی لوگوں کو ابتدائی طبی امداد سے زائد ادویات قیمت پر فراہم کی جا رہی ہیں، اور اس کے لئے مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔

ہمارا مقصد بلا تفریق انسانیت کی خدمت ہے۔ آپ کی آراء، تجاویز، اور مشوروں کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ امید ہے آپ بھی ہمارے مقامی سٹاف کے ساتھ تعاون فرمائیں گے۔

نون بگلہ

طاہر سعید گیلانی

یہ تحریر ایک فرد کے ذاتی تاثرات ہیں۔ 

cropped-IMG_20150404_190428-e1514120586881-2.jpg

 73    ۔1972 میں مڈل سکول کا درجہ پانے والے سکول کو 4 سے زیادہ دہائیاں گذرنے کے با وجود
ہائی سکول کا درجہ نہیں دیا گیا۔ ھائی سکول کی تعلیم کے لئے بچوں کو پیدل چکارجانا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے آدھے سے زیادہ بچے سکول کو چھوڑ دیتے ہیں۔ لڑکیوں کو
اسی مردانہ مڈل سکول کے اساتذہ کی ذاتی اجازت سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنےکا موقع مل جاتا ہے۔ مگر مڈل کے بعد بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ

 منقطع ہو جاتا ہے۔


گذشتہ حکومت نے کسی پیکیج وغیرہ کے تحت اس سکول کو ہائی کا درجہ دیا۔ لیکن موجودہ حکومت کے اسی یونین کونسل سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم نے اسے  مڈل سکول میں تبدیل کر کے نہ صرف اپنی نمائندگی کا حق ادا کیا بلکہ نویں جماعت میں داخلہ لینےوالی تقریباََ 2 درجن بچیوں کا وقت ضائع کر دیا۔

اے ایچ ایس فاؤنڈیشن نے زلزلے کے فوراََ بعد اس علاقے میں اپنی سرگرمیاں ریلیف کی صورت میںاسی دوران ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری، ندیم حیدر شاہ نے لوگوں کی مشاورت سے ایک بنیادی مرکز صحت بنانے کا عزم کیا اور بے شمار مشکلات کے باوجود اسکو پایہءِ تکمیل تک پہنچایا۔ یہی مرکز صحت ایک واحد سہولت ہے جو نہ صرف نون بگلہ بلکہ گرد و نواح کے تمام گاؤں کو مفت ادویات فراہم کر رہا ہے۔ چند افراد کی نونبگلہ میں آمد کی وجہ صرف یہی ایک مرکزِ صحت ہے وگرنہ اس گاؤں میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں جس کے لئے لوگ اس گاؤں کا رُخ کریں۔۔ سیاحت کے فروغ کی خاطرزمانہ قدیم میں تعمیر کیا گیا ریسٹ ہاؤس اب ایک بھوت بنگلہ ہے جو کسی زمانے میںسیر و سیاحت کے شوقین افراد سے پر رونق ہوا کرتا تھا۔ اس بھوت بنگلے کو 2005 کےزلزلے میں جو نقصان پہنچا اس کی مرمت، یا تزئین و آرائش آج تک نہیں کی جا سکی۔البتہ اس کی حفاظت پر مامور سیاسی سٹاف کو سرکاری خزانے سے تنخواہیں بدستور مل رہی ہیں۔

آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد سے تقریباََ 62   کیلو میٹر کے فاصلے پر ۔ تحصیل چکار کے نواح میں واقع یہ ایک چھوٹا سا موضع قدرت
کی بے پناہ فیاضیوں سے نوازا گیا تھا۔ لیکن وقت اور سیاست کے بے رحم ہاتھوں نے اس گاؤں کی قدرتی نوازشات کو نہ صرف لوٹ لیا، اس شاہکار کو منصوبہ بندی کے تحت ترقی اور خوشحالی سے دور رکھا۔

دہائیوں قبل دستور میں اس موضع کو صحت افزا ءمقام قرار دیا گیا، لیکن بدلتے وقت کے ساتھ اس کو خصوصی مقاصد کے حصول کیلئے الگ تھلگ رکھا گیا تا کہ اس کے قدرتی جنگل کی دولت کو دونوں ھاتھوں سے لوٹا جا سکے۔نتیجتاََ اس گاؤں کے گرد و نواح میں موجود جنگل تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ آج اس جنگل میں نو پود کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

آزاد کشمیر کی تاریخ کی سب سے پرانی سڑکوں میں سے ایک اسی تباہ کار منصوبہ بندی کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے اور صرف چند مقامات پر اس کے آثار نظر آرہے ہیں۔گذشتہ 2 دہائیوں سے اس سڑک کا 1 کیلو میٹر کا حصہ پختہ نہیں کیا جا سکا مبادا یہاں سیاحوں یا ماحولیات کےمتعلقہ اشخاص اس تباہ کاری پر آواز بلند کر کے گھاٹ مارنے ( سمگلنگ کرنے ) والے با اثر سیاسی کارندوں، اور ان کے کارکنوں کا واحد زریعہ آمدن بند نہ کر دیں۔