اے ایچ ایس – اُردُو

۔ اُردُو بلاگAHS Foundation

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّ حْمٰنِ الرَّحِیْمُ ہ

اے ایچ ایس فاؤنڈیشن کے اس اردو صفحے پر آپ کو خوش آمدید

مقصد

ہماری خواہش ہے کہ ہماری اس کاوش کو طلبہ و طالبات کی علمی اور تربیتی معاونت کے لئے استعمال کرنے کے
لئے اساتذہ کرام اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہر خواتین و حضرات ان کی راہنمائی کے لئے اپنی معلومات کا تبادلہ کریں۔ہماری خواہش ہے کہ ہماری اس کاوش کو طلبہ و طالبات کی علمی اور تربیتی معاونت کے لئے استعمال کرنے کےلئے اساتذہ کرام اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہر خواتین و حضرات ان کی راہنمائی کے لئے اپنی معلومات کا تبادلہ کریں۔

یہ صفحہ ان خواتین و حضرات کے لئے ہے جو انگریزی میں رابطے کو نا مناسب یا مشکل خیال کرتے ہیں۔ ہم بلاتخصیص ہر ایک کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ آپ اس سہولت کواخلاقیات کے فروغ ،تعمیری اور اصلاحی مقاصد کے لئے استعمال کریں گے۔

 (مثلاََ مصدقہ اطلاعات ۔ تعلیم و تربیت۔نیز اجتماعی مسائل پر اظہار خیال۔ اور علاقائی مفادات کی تشریح ، نشر و اشاعت، اور چرچا وغیرہ)

ہمارا تعارُف

اے ایچ ایس فاؤنڈیشن ایک غیر سیاسی، غیر کاروباری  خاندانی اور  دوستوں کی مراعات سے چلنے والی فلاحی تنظیم ہے جس کا مقصد ان لوگوں تک رسائی ہے جو کسی بھی وجہ سے نظر انداز کر دئیے گئے ہوں۔

ہم کسی سرکاری، علاقائی اور سیاسی تنظیم یا جماعت کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی ہم نے ان میں شمولیت کرنی ہے۔ہمارا واحد مقصد انسانوں کی بلا تفریق مدد کر کے ان کو امید دلانی ہےجو کسی وجہ سے مایوسیوں کا شکار ہیں۔

نون بگلہ ہسپتال

 

    اے ایچ ایس فاؤنڈیشن کے   ابتدائی طبی مرکز نون بگلہ کے صحت سے متعلقہ کردار ، اور کاوش کے بارے میں مفید مشورے، معلومات، رائے اور تبصرے سے اس کو مزید بہتر بنانے کے لئے ہماری مدد فرمائیں۔۔اے ایچ ایس فاؤنڈیشن کے ابتدائی طبی مرکز نون بگلہ کے صحت سے متعلقہ کردار ، اور کاوش کے بارے میں مفید مشورے، معلومات، رائے اور تبصرے سے اس کو مزید بہتر بنانے کے لئے ہماری مدد فرمائیں۔۔

نون بگلہ

طاہر سعید

یہ تحریر ایک فرد کے ذاتی تاثرات ہیں۔

آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد سے تقریباََ 62کیلو میٹر کے فاصلے پر ۔ تحصیل چکار کے نواح میں واقع یہ ایک چھوٹا سا موضع قدرتکی بے پناہ فیاضیوں سے نوازا گیا تھا۔ لیکن وقت اور سیاست کے بے رحم ہاتھوں نے اس گاؤں کی قدرتی نوازشات کو نہ صرف لوٹ لیا، اس شاہکار کو منصوبہ بندی کے تحت ترقیاور خوشحالی سے دور رکھا۔

دہائیوں قبل دستور میں اس موضع کو صحت افزا ءمقام قرار دیا گیا، لیکن بدلتے وقت کے ساتھ اس کو خصوصی مقاصد کے حصول کیلئے الگ تھلگ رکھا گیا تا کہ اس کے قدرتی جنگل کی دولت کو دونوں ھاتھوں سے لوٹا جا سکے۔
نتیجتاََ اس گاؤں کے گرد و نواح میں موجود جنگل تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ آجاس جنگل میں نو پود کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

آزاد کشمیر کی تاریخ کی سب سے پرانی سڑکوں میں سے ایک اسی تباہ کار منصوبہ بندی کا شکار ہو کر صفحہ ھستی سے مٹ چکی ہے اور صرف چند مقامات پر اس کے آثار نظر آرہے ہیں۔گذشتہ 2 دہائیوں سے اس سڑک کا 1 کیلومیٹر کا حصہ پختہ نہیں کیا جا سکا مبادا یہاں سیاحوں یا ماحولیات کےمتعلقہ اشخاص اس تباہ کاری پر آواز بلند کر کے گھاٹ مارنے ( سمگلنگ کرنے ) والے با اثر سیاسی کارندوں، اور ان کے کارکنوں کا واحد زریعہ آمدن بند نہ کر دیں۔

۔
-1972-73

میں مڈل سکول کا درجہ پانے والے سکول کو 4 سے زیادہ دہائیاں گذرنے کے با وجود ہائی سکول کا درجہ نہیں دیا گیا۔ ھائی سکول کی تعلیم کے لئے بچوں کو پیدل چکار جانا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے آدھے سے زیادہ بچے سکول کو چھوڑ دیتے ہیں۔ لڑکیوں کواسی مردانہ مڈل سکول کے اساتذہ کی ذاتی اجازت سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنےکا موقع مل جاتا ہے۔ مگر مڈل کے بعد بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔گذشتہ حکومت نے کسی پیکیج وغیرہ کے تحت اس سکول کو ہائی کا درجہ دیا۔ لیکن موجودہ حکومت کے اسی یونین کونسل سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم نے اسے واپس مڈل سکول میں تبدیل کر کے نہ صرف اپنی نمائندگی کا حق ادا کیا بلکہ نویں جماعت میں داخلہ لینےوالی تقریباََ 2 درجن بچیوں کا وقت ضائع کر دیا۔

اے ایچ ایس فاؤنڈیشن نے زلزلے کے فوراََ بعد اس علاقے میں اپنی سرگرمیاں ریلیف کی صورت میں شروع کیں۔ اسی دوران ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری، ندیم حیدر شاہ  صاحب نے لوگوں کی مشاورت سے ایک بنیادی مرکز صحت بنانے کا عزم کیا اور بے شمار مشکلات کے باوجود اس کو پایہءِ تکمیل تک پہنچایا۔ یہی مرکز صحت ایک واحد سہولت ہے جو نہ صرف نون بگلہ  بلکہ گرد و نواح کے تمام گاؤں کو مفت ادویات فراہم کر رہا ہے۔ چند افراد کی نون بگلہ میں آمد کی وجہ صرف یہی ایک مرکزِ صحت ہے وگرنہ اس گاؤں میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں جس کے لئے لوگ اس گاؤں کا رُخ کریں۔۔ سیاحت کے فروغ کی خاطر زمانہ قدیم میں تعمیر کیا گیا ریسٹ ہاؤس اب ایک بھوت بنگلہ ہے جو کسی زمانے میں سیر و سیاحت کے شوقین افراد سے پر رونق ہوا کرتا تھا۔ اس بھوت بنگلے کو 2005 کےزلزلے میں جو نقصان پہنچا اس کی مرمت، یا تزئین و آرائش آج تک نہیں کی جا سکی۔البتہ اس کی حفاظت پر مامور سیاسی سٹاف کو سرکاری خزانے سے تنخواہیں بدستور مل رہی ہیں۔