دیکھا کیجے

بند آنکھوں  کی بصارت کو بھی دیکھا کیجے۔ تلخ لفظوں کی حلاوت، کو بھی دیکھا کیجے۔ سرد مہری کی میری چاہے  شکایت  کرلو میرے جذبوں کی تمازت کو بھی دیکھا کیجے۔ میرے تیور کا ہو شکوہ تو چند لمحوں کو میری دھڑکن کی ملامت کو بھی دیکھا کیجے۔ کیا کرے وہ کہ جسے فرض نبھانے…
Read more


June 25, 2019 0